...راولاکوٹ: بند شہر، کھلے
راولاکوٹ کے ایک بزرگ نے کہا، "بیٹا، ہمارا شہر پہاڑوں میں ہے، مگر ہمارے مسائل میدانوں سے آتے ہیں۔"
پانچ جون سے آج تک کیلنڈر کے ستانوے صفحے پھٹ چکے ہیں۔ ان ستانوے دنوں میں شہر بند رہا، بازار بند رہے، سکول بند، کالج بند، یونیورسٹی بند۔ صرف دو چیزیں کھلی رہیں: جنازوں کے دروازے اور بیانات کی دکانیں۔ حاصل کیا ہوا؟ سویلین اور فورسز کے جوانوں کی شہادتیں، اور دونوں طرف کے وہ گھر جہاں اب چراغ نہیں، صرف تصویریں جلتی ہیں۔
راولاکوٹ کے باشندے وہی کر رہے ہیں جو ہر دور میں عام آدمی کرتا ہے — صبر، پھر شکوہ، پھر دعا۔ سیاست دان اپنی صف بندی کر رہے ہیں، کوئی آگے، کوئی پیچھے، اور کچھ عین درمیان میں تاکہ نتیجہ جو بھی ہو، تصویر میں موجود ہوں۔ علما منبر سے امن کی بات کرتے ہیں، مگر امن کے لیے قربانی کا نام کوئی نہیں لیتا۔ حاضر سروس والے حکم کے پابند ہیں، ریٹائرڈ حضرات تجزیے کے۔ اور پونچھ ڈویژن — جہاں سے آج بھی کلیدی عہدوں پر لوگ بیٹھے ہیں — اسی پونچھ کے شہر میں تین مہینے سے پہیہ جام ہے۔ اقتدار کی کرسی اپنے ہی محلے کی گلی نہیں کھلوا سکی۔ ذرا سوچیں!
آزاد کشمیر میں حکومت بھی بن گئی۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے بنائی؛ سوال یہ ہے کہ اس کا کردار کیا تھا اور کیا رہے گا۔ اگر حکومت کا کام صرف اعلان ہے تو یہ کام اخبار کا بھی ہے۔ حکومت کا کام فیصلہ ہوتا ہے، اور فیصلہ اُس وقت فیصلہ کہلاتا ہے جب وہ کسی کو ناراض کرے۔
اور یہ مسئلہ صرف راولاکوٹ کا نہیں۔ یہ پورے پاکستان کا وہی مقدمہ ہے جو ہر صوبے، ہر ضلع، ہر گلی میں نئے نام سے دائر ہوتا ہے: مطالبہ، ہڑتال، طاقت، خاموشی، اور پھر ایک نئی تاریخ۔ پاکستان میں ہر باشعور شخص فکرمند ہے اور دعاگو بھی، کیونکہ ہم سب اسی ایک عادت کے وارث ہیں کہ بات کرنے میں دیر کر دیتے ہیں اور بات بگاڑنے میں جلدی۔
جو لوگ اس مسئلے کو حل ہونے نہیں دے رہے، ان سے صرف ایک سوال ہے: ستانوے دن شہر بند رکھ کر آپ نے کیا جیت لیا؟ جس بچے کا ایک تعلیمی سال گیا، وہ واپس نہیں آئے گا۔ جس دکاندار کا قرض بڑھ گیا، وہ کسی معاہدے سے نہیں اترے گا۔ جس ماں کا بیٹا گیا، وہ کسی نوٹیفکیشن سے نہیں لوٹے گا۔ بند شہر کسی کی فتح نہیں، سب کی شکست ہے۔
خدا کے لیے، دونوں فریقوں میں سے جس کے پاس اس مسئلے کی کنجی ہے وہ اسے استعمال کرے۔ میرے شہر کی رونق بحال کرے، بازار کھولے، سکول کھولے، لوگوں کو کام پر جانے دے۔ انسانیت کی بھلائی کیجیے — اللہ آپ کا بھلا کرے گا۔
آخری بات: پہاڑ صبر کرنا سکھاتے ہیں، مگر پہاڑ بھی ہمیشہ خاموش نہیں رہتے۔
ظفر محمود خان دھرتی
0 Comments