راولاکوٹ کا دھرنا… آخر سوال ہے کیا؟
کبھی تاریخ میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ راستہ رک جاتا ہے، مگر سوال آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
بھمبر سے میرپور، میرپور سے کوٹلی، پھر حویلی، پونچھ اور راولاکوٹ… ایک لانگ مارچ مظفرآباد کی طرف بڑھنا تھا۔ مقصد مطالبات منوانا اور حکومت کو پہلے سے طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنا بتایا گیا۔ مگر راستہ راولاکوٹ میں رک گیا، اور دھرنا دنوں سے ہفتوں اور پھر مہینوں تک پہنچ گیا۔
اب سوال یہ نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟
ا
اصل سوال یہ ہے کہ…
اگر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا تو پھر اعتماد کہاں ٹوٹا؟
اگر حکومت کہتی ہے کہ مطالبات پر پیش رفت ہو چکی ہے، تو پھر عوام کے سامنے واضح ٹائم لائن اور مکمل عمل درآمد کیوں نہیں؟
اور اگر ایکشن کمیٹی کہتی ہے کہ معاہدے پر عمل نہیں ہوا، تو پھر اس معاہدے کی ہر شق، ہر تاریخ اور ہر ذمہ دار ادارہ عوام کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے؟
یہ صرف سیاسی سوال نہیں۔
یہ اخلاقی سوال بھی ہے۔
اگر احتجاج حق ہے تو عام شہری کا راستہ، کاروبار، علاج اور تعلیم بھی حق ہے۔
اور اگر ریاست کا کام امن قائم رکھنا ہے تو احتجاج کرنے والے شہری کی جان، عزت اور اختلافِ رائے کی حفاظت بھی اسی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
پھر ایک خطرناک سوال…
کہیں مطالبات کی جنگ آہستہ آہستہ انا کی جنگ تو نہیں بن رہی؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل مسئلہ پیچھے رہ جائے اور “ہم جیتیں گے یا وہ” کا سوال آگے آ جائے؟
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے بحران اکثر ایک دن میں پیدا نہیں ہوتے۔
وہ چھوٹے چھوٹے ٹوٹے ہوئے وعدوں، ختم ہوتے اعتماد اور بند ہوتے مکالموں سے جنم لیتے ہیں۔
اور جب مکالمہ ختم ہو جائے تو سڑکیں بولنے لگتی ہیں۔
لیکن سڑکوں کی آواز میں سب سے زیادہ تکلیف کس کی ہوتی ہے؟
عام آدمی کی۔
وہی دکاندار، وہی مزدور، وہی طالب علم، وہی مریض، وہی ماں جسے اپنے بچے کی فکر ہے۔
اور پھر سب سے بڑا سوال:
اگر کل دوبارہ لانگ مارچ نکلا، راستے میں تصادم ہوا، اور کوئی جان چلی گئی…
تو کیا بعد کا کوئی معاہدہ اس گھر کا بیٹا واپس لا سکے گا؟
اور اگر احتجاج کرنے والوں کو روکنے کے لیے طاقت استعمال ہوئی، تو کیا طاقت کبھی اعتماد پیدا کر سکتی ہے؟
یہ وقت ایک دوسرے کو شکست دینے کا نہیں، شاید یہ وقت یہ سمجھنے کا ہے کہ شکست آخر کس کی ہو رہی ہے؟
حکومت کی؟
ایکشن کمیٹی کی؟
یا اس عام کشمیری کی جو دونوں کے درمیان کھڑا ہے؟
راولاکوٹ کا دھرنا ہمیں ایک آئینہ دے رہا ہے۔
اس آئینے میں ہر فریق کو صرف مخالف کا چہرہ نہیں، اپنا چہرہ بھی دیکھنا ہوگا۔
کیونکہ تاریخ کا فیصلہ صرف یہ نہیں پوچھتا کہ
“کس نے کیا کہا؟”
تاریخ یہ بھی پوچھتی ہے:
“جب راستہ بند تھا، مذاکرات کا دروازہ کس نے کھولا؟
جب غصہ بڑھ رہا تھا، امن کی آواز کس نے بلند کی؟
اور جب انسان اور سیاست آمنے سامنے کھڑے تھے…
تو انسان کو کس نے پہلے رکھا؟”
ظفر محمود خان دھرتی
0 Comments