آزاد کشمیر: "آزاد" کس کا، "کشمیر" کس کا
کبھی سوچا ہے کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کے نام میں ان کی حقیقت سے زیادہ شاعری ہوتی ہے؟ "آزاد کشمیر" بھی انہی میں سے ایک ہے۔ نام سنتے ہی لگتا ہے جیسے کوئی جذبۂ حریت والا علاقہ ہوگا، جہاں ہر گلی میں آزادی کا گیت گایا جاتا ہو۔ مگر وہاں کے لوگوں سے پوچھو تو جواب ملتا ہے: "آزادی تو دور کی بات، بجلی کا بل بھی 'آزاد' نہیں — پورا دینا پڑتا ہے۔"
پچھلے کچھ عرصے سے مظفرآباد سے میرپور تک جو شور اٹھ رہا ہے، وہ کوئی نیا نہیں۔ یہ وہی پرانا قصہ ہے — آٹا مہنگا، بجلی کا بل منگلا ڈیم کی بجلی بنانے کے باوجود شہروں سے زیادہ، اور اوپر سے اشرافیہ بیوروکریسی کی سہولتوں کا بوجھ جو عام آدمی کے کندھوں پر رکھا جاتا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی ایک تنظیم بنی، جو وقتاً فوقتاً ہڑتال کراتی ہے، سرکار سے مذاکرات کرتی ہے، کچھ مطالبات مان لیے جاتے ہیں، پھر اگلے سال وہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ جیسے کوئی ٹی وی ڈرامہ ہو جس کا سیزن ختم نہیں ہوتا، بس نام بدل جاتا ہے۔
اب اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد سے جب بھی اس مسئلے پہ بات ہوتی ہے، انداز ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو جیب خرچ دے رہا ہو — "ابھی اتنا لے لو، اگلی دفعہ دیکھیں گے۔" اور اے جے کے کی اپنی سیاسی حکومت کا کردار بھی کچھ ایسا ہے جیسے بیچ میں کھڑا آدمی جو نہ اِدھر کا ہے نہ اُدھر کا، بس پریس کانفرنس کرنے کے کام آتا ہے
اور جہاں تک آزاد کشمیر کی اپنی حکومت کی بات ہے، تو وہاں بھی معاملہ کچھ کم دلچسپ نہیں۔ ایک ایسی ریاست جس کی آبادی پاکستان کے کسی بڑے شہر کے ایک ضلعے جتنی ہے، وہاں وزیروں، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی فہرست دیکھ کر لگتا ہے جیسے کابینہ نہیں، پوری بارات ہے۔ ہر رکنِ اسمبلی کے پاس سرکاری گاڑی، مفت پیٹرول، اور مراعات کی وہ فہرست ہے جو خود اُس عام شہری کو نصیب نہیں جو الیکشن میں ووٹ ڈال کر انہیں یہاں تک پہنچاتا ہے۔ محل نما سرکاری رہائش گاہیں، غیر ملکی دوروں کے نام پر "مطالعاتی وفود" کی روایت، اور تنخواہوں کے علاوہ اُن الاؤنسز کی طویل فہرست جن کا حساب دینا کسی کے ذمے نہیں — یہ سب اُس وقت ہوتا ہے جب عام آدمی بجلی کے بل کے لیے احتجاج کر رہا ہوتا ہے۔ عوام سڑکوں پہ نکلتی ہے تو حکومتی وفد ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر "مذاکرات" کرتا ہے، اور مذاکرات کے بعد جو پریس ریلیز آتی ہے اُس میں "عوام کی فلاح ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے" جیسا وہی فقرہ ہوتا ہے جو ہر حکومت، ہر دور میں دہراتی آئی ہے۔
اور جب عوام سڑک پہ آتی ہے، تو میڈیا کا ایک حصہ اس مسئلے کو "لا اینڈ آرڈر" کی خبر بنا دیتا ہے — جیسے بجلی کے بل کا احتجاج کبھی کسی ملک میں نہ ہوا ہو۔ کچھ چینل یہ سوال پوچھتے ہیں کہ "کہیں یہ کوئی باہر کی سازش تو نہیں،" جیسے غریب آدمی کو اپنا بل مہنگا لگنے کے لیے بھی کسی فارن ایجنٹ کی این او سی چاہیے ہو۔
سچی بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کا مطالبہ نہ آزادی ہے، نہ بغاوت — مطالبہ صرف اتنا ہے کہ جس ڈیم کی بجلی ان کے گھر کے اوپر سے گزرتی ہے، اس کا بل ان کے اپنے گھر میں تھوڑا کم ہو، اور جو حکومت اُن کے نام پر بنتی ہے، وہ اُن کے نام پر خرچ بھی تھوڑا کم کرے۔ یہ کوئی جیو اسٹریٹیجک مطالبہ نہیں، یہ گروسری لسٹ جتنا سادہ ہے۔ مگر جب ریاست مسائل کو "اسٹریٹیجک ڈیپتھ" کی نظر سے دیکھنے کی عادی ہو جائے، اور حکومت اپنی مراعات کو "پروٹوکول" کا نام دے دے، تو آٹا اور بجلی بھی اسٹریٹیجک ہو جاتے ہیں اور عیاشی، "انتظامی ضرورت۔"
آخر میں سوال وہی پرانا: جب تک "آزاد کشمیر" کا لفظ صرف نقشے پہ آزاد ہے، بل میں پورا "کالونائزڈ،" اور کابینہ کی مراعات میں مکمل "شاہی،" تب تک یہ کہانی چلتی رہے گی — ہر سال نیا کمیٹی، نیا مذاکرہ، اور وہی پرانا پنچ لائن۔
0 Comments