ایک قوم، کئی دیواریں
ہمارا معاشرہ تقسیم پر تقسیم ہے — برادری، خاندان، فرقہ، زبان، سیاست، پیشہ، علاقہ اور اب ایک اور تقسیم: کشمیر، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان۔ اور اب پاکستان اور کشمیر؟؟ ؟
اس تقسیم کی بنیاد برطانوی حکومت نے رکھی تھی، تاکہ وہ برصغیر میں حکومت کر سکے — یعنی ہم آپس میں لڑیں، اور وہ آرام سے راج کریں۔ مگر سوال یہ ہے: پاکستان بننے کے بعد ہم پھر کیوں تقسیم ہوئے؟
"جب ایک ہی گھر میں دیواریں کھڑی کر لو، تو پھر گھر رہتا کہاں — صرف کوٹھیاں بچتی ہیں۔"
اسلام ہمیں اس سختی سے منع کرتا ہے — تقسیم، فرقہ، گروہ، یہ سب وہ بیماریاں ہیں جن کی جڑ نفسِ امارہ میں ہے، ایمان میں نہیں۔ جتنی مساجد بڑھ گئیں، نفرتیں بڑھیں۔ جتنے ڈاکٹر زیادہ ہوئے، بیماریاں بھی زیادہ ہو گئیں۔ کیوں؟ کیونکہ دونوں اپنے اصل مقصد سے بھٹک گئے — مسجد میں اتحاد کی جگہ تفرقہ بیٹھ گیا، اور علاج کی جگہ کاروبار۔
تقسیم کے ساتھ ہم اپنے مسائل کو حل کیسے کریں گے؟ ہر کوئی اپنی دبیز میں، اپنی دیوار کے پیچھے۔ اگر ہم ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے، تو دنیا کے ساتھ زندگی کیسے گزاریں گے؟ اپنے گھر والے سے نہ ملیں گے، تو پرائے کیسے ملیں گے؟
ذرا سچے دل سے پوچھو — کیا خود مختاری ہر جگہ ضروری ہے؟ ہر علاقہ، ہر زبان، ہر فرقہ اپنا الگ پرچم لے کر کھڑا ہو، تو پھر یہ ملک رہے گا کہاں؟ تقسیم کا یہ سلسلہ جہاں رک جائے گا، وہیں ہم رک جائیں گے۔
خدا رہے، اس تقسیم کی بیماری کی کنجی جس کے پاس ہے — درویش، فقیر،عالم ،سیاستدان،
سماجی کارکن عاقل آدمی میں سے — وہ اسے حل کرے۔ ملک کی رونق بہال کرے۔ انسانیت کی بھلائی کرے — خدا آپ کا بھلا کرے گا۔
آخری بات: ایک قوم تب تک قوم نہیں، جب تک دیواریں گرائی نہ جائیں — تقسیم کا علاج وحدت ہے، اور وحدت کی کنجی برداشت ہے۔
ظفر محمود خان دھرتی
0 Comments