آزاد کشمیر: دھرنا، دروازے اور اعلٰی ظرفی


بیاسی دن۔ یہ صرف ایک تعداد نہیں، ایک سوال ہے۔ آزاد کشمیر کی سڑکوں پر بیٹھے ہوئے لوگ اتنے دن سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان کا احتجاج کسی کی سمجھ میں آئے گا، یا یہ بھی کشمیر کی تاریخ کے ان بے جواب بابوں میں شامل ہو جائے گا جو کتابوں میں تو لکھے جاتے ہیں مگر دلوں میں نہیں اترتے۔

جب مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو ایک امید لہرائی تھی۔ لوگوں نے سمجھا کہ شاید اب مسائل کا حل نکلے گا، شاید اب مزاکرات کی میز لگے گی اور لاٹھیوں کی جگہ بات چیت ہوگی۔ لیکن افسوس کہ حکومت آج بھی اسی پرانے موقف پر کھڑی ہے جہاں سے وہ شروع ہوئی تھی: پہلے دھرنا ختم ہو، پھر بات ہوگی۔

یہ استدلال سننے میں اصولی لگتا ہے مگر حقیقت میں ایک قدیم چال ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دھرنے ختم کرنے کا واحد راستہ بات چیت ہی ہوتی ہے۔ آپ پہلے سنیں، پھر لوگ اٹھیں گے۔ آپ اٹھوانا چاہتے ہیں بغیر سنے — یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بیمار سے کہا جائے کہ پہلے صحت مند ہو جاؤ، پھر دوا دیں گے۔

بات یہ بھی ہے کہ عوام پہلے بھی بات چیت چاہتے تھے اور آج بھی چاہتے ہیں۔ لاتعلقگی حکومت کی طرف سے ہے۔ جب ایک فریق کان بند کر لے تو دوسرا فریق شور مچاتا ہے، اور پھر شور کو مسئلہ قرار دے کر اصل مسئلہ بھولا دیا جاتا ہے۔

اس صورتحال میں نظریں ایک شخص پر ٹک گئی ہیں: میاں نواز شریف۔ وہ مسلم لیگ ن کے سربراہ ہیں، اور ان کی حکومت صرف مظفر آباد میں نہیں — وفاق میں بھی ہے، پنجاب میں بھی ہے۔ یہ تینوں دروازے ان ہی کے پاس ہیں۔ اگر یہ تینوں دروازے بند ہیں تو کھولنے والا بھی ایک ہی ہے۔ اس سے بڑی سیاسی طاقت آج پاکستان میں شاید ہی کسی کے پاس ہو۔ لیکن طاقت کا امتحان یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنے دروازے ہیں، امتحان یہ ہے کہ آپ کتنے دروازے دوسروں کے لیے کھولتے ہیں۔

نواز شریف صاحب کو یہ کردار خود ادا کرنا چاہیے۔ مسئلہ آزاد کشمیر کا ہے مگر حل کی کنجی لاہور اور اسلام آباد میں ہے۔ وہ ذاتی طور پر آگے آئیں، مذاکرات کی قیادت کریں، اور اس تنازعے کو ختم کرائیں۔ یہ ان کا سیاسی بوجھ نہیں، ان کی سیاسی جائداد بن سکتا ہے۔

اب ایک اور خطرناک باب کھل رہا ہے۔ پنجاب اور آزاد کشمیر کے سرحدی مقامات پر اطلاعات ہیں کہ پولیس کشمیریوں کو سامان لے جانے سے روک رہی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ محض انتظامی قدم نہیں — یہ نفرتوں کا آغاز ہے۔ سیاست میں مسائل حل ہو جاتے ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، معاہدے ہو جاتے ہیں۔ مگر جو نفرت دلوں میں اتار دی جائے، وہ مٹائی مشکل سے مٹتی ہے۔ پنجاب اور کشمیر کے عوام کے رشتے تاریخی ہیں، خونی ہیں، جغرافیائی ہیں۔ ان رشتوں کو چیک پوسٹوں پر کاٹنے کی کوشش آنے والی نسلوں کے لیے زہر بونا ہے۔

اور پھر وہ ذاتی نسبت بھی ہے — آپ کی بھی وابستگی کشمیر سے ہے۔ یہ زمین صرف سیاست کا میدان نہیں، خاندانوں، کہانیوں اور یادوں کی سرزمین ہے۔ جو شخص کشمیر کو اپنا سمجھتا ہے، اس کے لیے خاموشی ایک قیمت ہے جو آخرکار ادا کرنی پڑتی ہے۔

 بیاسی دن ہو چکے ہیں۔ ہر گزرتا دن عوام کا اعتماد گھٹا رہا ہے اور حکومت کا وقار بھی۔ حکمرانی کا ہنر لاٹھی چلانے میں نہیں، عوام کے موقف کو سمجھنے میں ہے۔ لوگوں کے موقف کو قریب کریں، ان کی بات کو اپنی میز پر رکھیں، اور اعلٰی ظرفی سے کام لیں۔ بڑے فیصلے بڑے دل مانگتے ہیں۔

خدا کرے کوئی حل نکل آئے۔ لیکن حل آسمان سے نہیں اترتے، وہ ان لوگوں کے دلوں سے نکلتے ہیں جو طاقت رکھتے ہیں اور استعمال کرنے کا حوصلہ بھی۔ میاں صاحب! یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں۔ قومی رہنما وہ نہیں جو تین صوبوں پر حکومت کرے — قومی رہنما وہ ہے جو تقسیم شدہ لوگوں کو جوڑے

تاریخ آپ سے یہ سوال پوچھ رہی ہے۔ جواب آپ کے پاس ہے۔۔             

 ظفر محمود خان دھرتی

Post a Comment

0 Comments