پہاڑ صبر کرتے ہیں، مگر ہمیشہ نہیںراولاکوٹ کا دھرنا، دو حکومتیں اور ایک خاموش کشمیری
راولاکوٹ میں سردی جلدی اترتی ہے اور فیصلے دیر سے۔ چوک میں ایک شامیانہ لگا ہے، اُس کے نیچے تین سو لوگ بیٹھے ہیں، اور اُن تین سو لوگوں کے پیچھے تین لاکھ گھر ہیں جن کے چولہے حساب مانگ رہے ہیں۔ مطالبہ کوئی آسمانی نہیں: آٹا اُس بھاؤ ملے جو منڈی کا ہے، بجلی اُس نرخ پر ملے جو اُس دریا کا ہے جو اِنہی کے صحن سے گزر کر روشنی بانٹنے جاتا ہے، اور مراعات کی وہ فہرست ذرا مختصر ہو جو ہر حکومت کے ساتھ لمبی ہوتی جاتی ہے۔
دھرنے کا مزاج عجیب ہوتا ہے۔ پہلے دن وہ خبر ہوتا ہے، تیسرے دن وہ تصویر بن جاتا ہے، ساتویں دن وہ عادت لگنے لگتا ہے، اور دسویں دن اُس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ ’’یہ ابھی تک بیٹھے ہیں؟‘‘ گویا بیٹھنا جرم ہے اور نہ سننا ایک انتظامی سہولت۔
مظفرآباد میں ایک حکومت ہے۔ اُس کے پاس بجٹ کم اور بیانات زیادہ ہیں۔ وہ ہر مطالبے کے جواب میں کہتی ہے کہ ’’یہ ہمارے دائرۂ اختیار میں نہیں‘‘۔ اسلام آباد میں ایک اور حکومت ہے، وہ کہتی ہے ’’یہ آزاد کشمیر کا معاملہ ہے، وہ آزاد ہیں‘‘۔ اور عوام درمیان میں کھڑے دونوں کی طرف دیکھتے ہیں، جیسے دو دکاندار ایک ٹوٹے ہوئے برتن پر ایک دوسرے کو گاہک بھیج رہے ہوں۔
اب ذرا ایک اور دروازے پر دستک دیجیے۔ نواز شریف صاحب مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں۔ اُن کی جماعت کی حکومت وفاق میں ہے، پنجاب میں ہے، اور وزیرِاعلیٰ اُن کی صاحبزادی ہیں۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ کہ وہ خود کو کشمیری کہتے ہیں — انارکلی سے جاتی امرا تک، ہر تقریر میں یہ نسبت فخر سے دہرائی جاتی ہے۔
تو سوال معصوم سا ہے: جس شہر کے لوگ آٹے کی بوری اور بجلی کے بل پر سڑک پر بیٹھے ہیں، اُس شہر کے لیے یہ کشمیری بزرگ سیاست دان کیا کہہ چکے ہیں؟ کوئی ایک جملہ؟ کوئی ایک ٹویٹ؟ کوئی ایک وفد جو مظفرآباد کے بجائے راولاکوٹ اُترے؟ خاموشی۔ اور خاموشی بھی وہ جو غور سے سنی جائے تو ایک فیصلہ لگتی ہے۔
یہ عجیب منطق ہے کہ نسبت تو کشمیر سے ہو اور ذمہ داری صرف لاہور تک۔ کشمیریت اگر شناخت ہے تو صرف شادی کے کارڈ اور خاندانی شجرے کی زینت نہیں، وہ ایک بل بھی ہے جو کبھی نہ کبھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ بل بہت بھاری نہیں: ایک فون، ایک میز، ایک کمرہ جس میں وفاق، آزاد کشمیر کی حکومت اور دھرنے والوں کے نمائندے ایک ساتھ بیٹھیں۔
کیونکہ مسئلہ حل طلب ہے، ناقابلِ حل نہیں۔ بجلی اُسی جگہ پیدا ہوتی ہے، سبسڈی کا حساب ماہرین ایک ہفتے میں لگا سکتے ہیں، مراعات کی فہرست ایک نوٹیفکیشن سے چھوٹی ہو سکتی ہے۔ جو چیز ناپید ہے وہ وسائل نہیں، ارادہ ہے۔ اور ارادہ عموماً وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کوئی بڑا آدمی یہ کہہ دے کہ ’’یہ میرا معاملہ ہے‘‘۔
تاریخ کا ایک پرانا اصول ہے: جو مطالبہ وقت پر سن لیا جائے وہ درخواست رہتا ہے، جو نہ سنا جائے وہ نعرہ بن جاتا ہے، اور جو نعرے کے بعد بھی نہ سنا جائے وہ پھر کسی کی گفتگو کا موضوع نہیں رہتا — وہ خود گفتگو بدل دیتا ہے۔
راولاکوٹ کے چوک میں شامیانہ اب بھی لگا ہے۔ چائے کی کیتلی دن میں تین بار خالی ہوتی ہے۔ ایک بوڑھا کہہ رہا تھا: ’’ہم آزادی نہیں مانگ رہے، ہم صرف حساب مانگ رہے ہیں۔‘‘ اور شاید یہی وہ جملہ ہے جو اسلام آباد، مظفرآباد اور جاتی امرا — تینوں پتوں پر ایک ساتھ بھیجا جانا چاہیے۔
کیونکہ پہاڑ صبر کرتے ہیں، مگر ہمیشہ نہیں۔
ظفر محمود خان دھرتی
0 Comments