راولاکوٹ کا دھرنا اور جیت کا نشہ

جیت کے بعد کا پہلا ہفتہ سب سے خطرناک ہوتا ہے۔ اس ہفتے میں کامیاب آدمی کے کان عارضی طور پر بند ہو جاتے ہیں۔ نتائج کے مراکز پر بجتے ڈھول، گلے میں پڑے ہار اور ٹی وی اسکرین پر چلتی ہوئی سرخی — یہ سب مل کر ایک ایسی آواز پیدا کرتے ہیں جس میں دور کہیں پہاڑوں پر بیٹھے لوگوں کی صدا سنائی نہیں دیتی۔

مسلم لیگ ن انتخاب جیت چکی ہے۔ مبارک ہو۔ مگر جیت کوئی منزل نہیں ہوتی، جیت تو محض وہ چابی ہے جو آپ کو اس کمرے میں داخل کرتی ہے جہاں مسائل کی فائلیں دیمک کھا رہی ہیں۔ اور ان فائلوں میں سے ایک فائل پر لکھا ہے: راولاکوٹ۔

راولاکوٹ میں لوگ سڑک پر بیٹھے ہیں۔ نہ وہ ریاست سے الگ ہونا چاہتے ہیں، نہ انہوں نے کوئی آسمانی مطالبہ رکھا ہے۔ ان کے مطالبات اتنے سادہ ہیں کہ سن کر شرمندگی ہوتی ہے کہ اس کے لیے دھرنا کیوں دینا پڑا۔ بجلی جو ان کے اپنے پانی سے بنتی ہے، آٹا جو ان کے بچوں کے پیٹ میں جاتا ہے، اور یہ سوال کہ فیصلے کرنے والے کرسیاں اتنی دور کیوں رکھی گئی ہیں کہ آواز پہنچتے پہنچتے مر جاتی ہے۔

ہمارے ہاں احتجاج کے ساتھ ریاست کا رویہ ایک طے شدہ اسکرپٹ پر چلتا ہے۔ پہلے مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ مطالبات جائز ہیں مگر طریقہ غلط ہے۔ دوسرے مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ پیچھے کوئی "ہاتھ" ہے۔ تیسرے مرحلے میں کنٹینر، شیلنگ اور ایف آئی آر۔ اور چوتھے مرحلے میں وہی معاہدہ جو پہلے دن دستخط ہو سکتا تھا — مگر اب اس پر خون کے چند دھبے بھی لگے ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس بار اسکرپٹ بدلا جا سکتا ہے؟

بدلا جا سکتا ہے، بشرطیکہ کوئی یہ سمجھ لے کہ کشمیر کے معاملے میں ہر لاٹھی ہماری اپنی پیٹھ پر پڑتی ہے۔ ہم دنیا بھر میں جس وادی کے حقوق کی وکالت کرتے ہیں، وہاں اگر آٹے کی سبسڈی کے لیے لوگوں کو سردی میں راتیں گزارنی پڑیں تو ہماری وکالت کی آواز خود بخود دھیمی پڑ جاتی ہے۔

حل مشکل نہیں۔ حل صرف تین لفظوں میں ہے: بیٹھو، سنو، لکھو۔

بیٹھو — یعنی وفاقی حکومت ایک بااختیار وفد بھیجے، سیکرٹری سطح کا نہیں، سیاسی سطح کا۔ ایسا وفد جو "بات آگے پہنچا دیں گے" کہنے کے بجائے موقع پر فیصلہ کر سکے۔

سنو — یعنی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو سازش نہ سمجھا جائے۔ جو لوگ برسوں سے پرامن بیٹھے ہیں، انہیں دشمن قرار دینا سب سے سستی اور سب سے مہنگی حکمتِ عملی ہے۔

لکھو — یعنی جو طے ہو، وہ تحریری ہو، ٹائم لائن کے ساتھ، اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی ہو۔ کیونکہ راولاکوٹ کا اصل مسئلہ مطالبات نہیں، وعدہ خلافی کی یادداشت ہے۔

اور یہیں نواز شریف صاحب کا کردار شروع ہوتا ہے۔

نواز شریف اس وقت اس نایاب مقام پر کھڑے ہیں جہاں انسان کو اگلا الیکشن نہیں، اگلی نسل کی رائے سوچنی ہوتی ہے۔ ان کے پاس کھونے کو کچھ خاص نہیں اور دینے کو بہت کچھ ہے۔ ایک ٹویٹ یا بیان نہیں — ایک سفر۔ راولاکوٹ جانا، دھرنے والوں کے سامنے بیٹھنا، اور یہ کہنا کہ "آپ کی بات درست ہے، دیر ہماری طرف سے ہوئی۔"

سیاست میں معافی کمزوری نہیں، سب سے بڑا سیاسی سرمایہ ہوتی ہے۔ جو حکمران غلطی مان لے، وہ آدھا بحران وہیں ختم کر دیتا ہے۔

ن لیگ کے پاس اس وقت مینڈیٹ بھی ہے اور موقع بھی۔ مینڈیٹ کا استعمال اگر صرف تقرریوں، تبادلوں اور تصویروں کے لیے ہوا تو پانچ سال بعد یہی راولاکوٹ ایک اور شکل میں سامنے آئے گا، اور تب اس کا حجم بڑا ہوگا۔

پہاڑ صبر کرتے ہیں، مگر ہمیشہ نہیں کرتے۔ اور جب پہاڑ بولتے ہیں تو پھر کسی جیت کے ڈھول کی آواز سنائی نہیں دیتی۔

ظفر محمود خان دھرتی

Post a Comment

0 Comments