راولاکوٹ: بند شہر، ٹوٹا ہوا آدمی
دو رائے، ایک شہر ۔
حکومت کا موقف ہے کہ پہلے "دھرنا ختم کرو، بات چلے گی۔"
جے اےاے سی کا کہنہ ہے کہ"ایف آئی آر اور نوٹیفیکیشن واپس لو، پھر دھرنا اٹھے گا۔
اور بیچ میں وہ، جو روز کما کر روز کھاتا تھا، ساٹھ دنوں سے بے روزگار ہے۔
یہ سیاست نہیں، یہ کسی کے گھر کی چولہی بجھنے کی کہانی ہے۔ سکول بند، کالج بند، دکان بند، بینک بند۔ بچے کے چہرے پر تعلیم کا سایہ نہیں، مزدور کے ہاتھ میں کام نہیں، تاجر کے گنتی میں نفع نہیں۔
سب سے زیادہ نقصان کس کا؟ اس کا، جو کبھی دھرنے میں شریک نہیں تھا، کبھی حکومت کی خلاف ورزی نہیں کی، کبھی جے اے اے سی کا نعرہ نہیں لگایا۔ بس چپ چاپ اپنی روٹی کماتا تھا، اور آج وہی بھوکا سوچتا ہے: "میرا قصور کیا؟"
سیاستدانوں کے گھروں میں روشنی ہے، دونوں طرف کے لیڈروں کے پاس کھانا ہے، لیکن اس عام آدمی کے گھر میں اندھیرا ہے۔
الزام دینا آسان ہے۔ حل مشکل۔ لیکن حل ضروری ہے۔
میز پر بیٹھیں۔ بات کریں۔ سمجھوتہ کریں۔ دھرنے سے شہر بند رکھنا، اور بند شہر پر اپنی شرطیں منوانا — دونوں ہی عام آدمی کی پیٹ پر لات ہے۔
کوئی بھی سیاسی لڑائی اتنی بڑی نہیں کہ شہر کی سانسیں روک دی جائیں۔ نوجوان بے روزگار ہے، طالبعلم تعلیم سے محروم، تاجر تباہ۔ اگر یہی حال رہا، تو جیت بھی ہار بن جائے گی۔
یہ شہر سب کا ہے۔ اس کا نقصان سب کا ہے۔ تو حل بھی سب کو مل کر نکالنا ہوگا۔
سب سے پہلے: شہر چلنے دو، لوگوں کو سانس لینے دو۔ پھر جتنی سیاسی باتیں کرنی ہیں، کر لو۔ بات چیت سے آگے بڑھو، ورنہ آگ سے سب جلیں گے۔
آخر میں ایک بات: سڑک پر دھرنا لگا ہے، لیکن دلوں میں بھی ایک دھرنا بیٹھ گیا ہے۔ اسے اٹھانے کے لیے صرف شرطیں نہیں، سمجھداری چاہیے
۔ ظفر محمود خان دھرتی
0 Comments