آزاد کشمیر: دو ضلعے، ایک تاریخ، اور ایک بھولتی ہوئی سیاست
کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے۔ کچھ نام "ثبوت" ہوتے ہیں۔ کچھ نام "قرض" ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے گیارہ ضلعوں میں سے اگر دو — راوالکوٹ اور پلندری — آج "حکومت" کی میز پر نہیں ہیں، تو یہ محض سیاسی انتظام نہیں، یہ ایک تاریخی غداری ہے جو خاموشی سے دستک دے رہی ہے۔
آزاد کشمیر کا مطلب کیا ہے؟
صرف ایک نقشہ؟ صرف ایک جھنڈا؟ صرف ایک اسمبلی؟
نہیں۔ آزاد کشمیر کا مطلب ہے وہ خون جو پونچھ کی گلیوں میں بہا، وہ آنسو جو پلندری کی مٹی میں سمائے، وہ آواز جو ڈوگرہ راج کے دربار تک گئی تھی۔ یہ آزادی ان لکھاریوں، ان مزدوروں، ان کسانوں، ان مجاہدوں کی قربانیوں سے ملی تھی جنہوں نے "غلامی" کا طوق توڑ کر ایک نیا سورج دیکھا تھا۔
اور آج؟
آج کچھ لوگ — چند چہرے، چند کرسیاں، چند ووٹوں کے "حساب" — یہ بھول گئے ہیں کہ حساب کیوں نہیں بنتا، جب "حصہ" نکال لیا جائے۔ آزاد کشمیر کی 11 ضلعی "کل" میں سے 2 کو نظرانداز کرنا، یوں ہی ہے جیسے کسی جسم کا ہاتھ کاٹ کر کہا جائے: "اب باقی جسم چلے گا۔" نہیں، جسم نہیں چلے گا۔ جھولتا ہے، لڑھکتا ہے، لیکن پورا نہیں چل پاتا۔
پونچھ اور پلندری کے عظیم لوگوں کو چھوڑ کر کوئی "حکومت" بننے کا سوچے، تو یہ "حکومت" نہیں، یہ "ادھوری میز" ہوگی۔ اور ادھوری میز پر بیٹھ کر فیصلے کرنے والے، کبھی پورے ملک کے فیصلے نہیں کر سکتے۔ وہ صرف اپنے سائے کے فیصلے کر پائیں گے۔
سیاست میں "اکثریت" ایک لفظ ہے، لیکن "سنجیدگی" ایک رویہ ہے۔ جیتنے والی جماعت — MLN — کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار صرف ووٹوں کی گنتی نہیں ہوتا، اقتدار اعتماد کی تقسیم ہوتا ہے۔ اگر اقتدار کے تقسیم میں کسی خطے کو "غیر ضروری" سمجھا گیا، تو وہ اقتدار خود "غیر مستحکم" ہو جاتا ہے۔
اور یہاں بات صرف سیاست کی نہیں۔ یہاں بات "نفرت" کی ہے۔ جو درار آج پیدا ہوگا، وہ کل دریا بن جائے گا۔ وہ دریا جو گھروں میں گھسے گا، رشتوں میں گھسے گا، اور ایک ایسی "ہم شکل" قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا۔ وہ نفرت جو ابھی ایک خیال ہے، کل ایک "ناقابل تلافی واقعہ" بن سکتی ہے۔
اگر آج پونچھ کو "بچہ" بنایا جائے، پلندری کو "پردے" کے پیچھے رکھا جائے، راوالکوٹ کو "جھٹکا" دیا جائے، تو کل یہی لوگ پوچھیں گے:
"ہم نے آزادی کیسے دی؟"
"ہم نے کس کے لیے لڑے؟"
"اور جس ملک کے لیے ہم مرے، کیا وہ ملک ہمیں بھول گیا؟"
اور یہ سوال، سب سے خطرناک سوال ہے۔ کیونکہ جب ایک قوم اپنے "دیے ہوئے" سوال کرے، تو اس قوم کا ہر ریاستی ڈھانچہ ہل جاتا ہے۔
اگرچہ آزادی کی لڑائی ایک زمانے میں لڑی گئی، لیکن آزادی کو برقرار رکھنا ہر روز لڑنا پڑتا ہے۔ آج کی لڑائی ووٹوں کی نہیں، "روایت" کی ہے۔ آج کی لڑائی کرسیوں کی نہیں، "روح" کی ہے۔ اگر پونچھ اور پلندری کی روح کو نظرانداز کیا گیا، تو آزاد کشمیر کا جسم زندہ رہے گا، لیکن اس کی روح مر جائے گی۔
آزاد کشمیر صرف "سیاسی نقشہ" نہیں۔ یہ "emotional geography" ہے — ایک جذباتی جغرافیہ جس کی ہر وادی میں قربانیاں دفن ہیں، ہر چشمے میں آزادی کا پانی بہتا ہے، اور ہر پہاڑی پر ایک شہید کا سایہ ہے۔
اس لیے جو لوگ آج "حکومت" بنانے کی دوڑ میں ہیں، انہیں ایک بات سمجھنی ہوگی: تمہیں اقتدار کی ضرورت ہے، لیکن اقتدار کو تمہاری ضرورت نہیں۔ اقتدار کو اس قوم کی ضرورت ہے جو پوری ہے، جو متحد ہے، جو "سب کو ساتھ" لے کر چلتی ہے۔
اگر تم دو ضلعوں کو پیچھے چھوڑو گے، تو تم آزاد کشمیر کو نہیں، صرف ایک "چھوٹی سی دکان" چلاؤ گے۔ اور دکانوں پر بڑی قومیں نہیں بنتیں۔
0 Comments