راولاکوٹ: ایک شہر جو سانس روکے بیٹھا ہے

کچھ شہر ایسے ہوتے ہیں جو اپنی خوشبو سے پہچانے جاتے ہیں۔ راولاکوٹ بھی انہی میں سے ایک تھا، وہ خوشبو جو دیودار کے درختوں سے اٹھتی، بارش کی پہلی پھوار میں گھل جاتی، اور اسلام آباد سے آنے والے مسافر کی تھکن دو ڈھائی گھنٹے کی سیدھی، سبک رفتار سڑک پر ہی اتار دیتی۔ ساون کا مہینہ آتا تو یہ شہر جیسے دلہن بن جاتا، سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں کسی جلوس کا منظر پیش کرتیں، ہوٹل کی کھڑکیوں سے چائے کی بھاپ اٹھتی، اور دکانداروں کے ہاتھ سارا سال کی کمائی ایک موسم میں سمیٹنے کے لیے پھیل جاتے۔ حکومت کا خزانہ بھی خاموشی سے اس رونق میں اپنا حصہ ڈال لیتا، اور علاقے کا امن اتنا بےریا کہ رات کی تنہائی میں بھی خوف کا کوئی سایہ نہیں پھٹکتا تھا۔

پھر چھہتر دن پہلے، جیسے کسی نے اس دلہن کا زیور اتار لیا ہو، شہر اچانک چپ ہو گیا۔ اب کچھ گلیوں میں فورسز کی بندوقیں چمکتی ہیں، اور کچھ گھروں کی چاردیواری میں خاموش خوف دبکا بیٹھا ہے۔ بازار وہی ہیں مگر ویران، سڑکیں وہی ہیں مگر سنسان، اور جو تھوڑی بہت زندگی باقی تھی وہ بھی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس خاموشی سے کسی کا بھلا نہیں ہو رہا، نہ اس کا جو سڑک پر کھڑا ہے، نہ اس کا جو ایوان میں بیٹھا ہے۔ درمیان میں بس ایک خلا ہے، اعتماد کا خلا، جو نہ پْر ہو رہا ہے نہ ختم۔

ایک وقت تھا کہ ایسے حالات میں سیاستدان کسی پروانے کی طرح میدان کی طرف کھنچے چلے آتے، بیانات کی بارش کر دیتے، ثالثی کا دعویٰ لیے دوڑتے۔ اس بار خاموشی نے جیسے سب کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا ہے۔ اسلام آباد بھی دور کھڑا، تماشائی کی طرح دیکھ رہا ہے، شاید اس خوش فہمی میں کہ آگ خود بخود بجھ جائے گی۔ مگر آگ خود سے نہیں بجھتی، وہ یا تو بجھائی جاتی ہے یا راکھ کے نیچے سلگتی رہتی ہے، اور دیر سویر پھر بھڑک اٹھتی ہے۔

اس خاموشی کی قیمت کون چکا رہا ہے؟ وہ ہوٹل مالک جس نے کمروں کو موسم کے انتظار میں سجایا تھا۔ وہ ڈرائیور جس کی گاڑی اب خالی سڑکوں پر دھول چاٹ رہی ہے۔ وہ دکاندار جس کی برسوں کی محنت اس ایک موسم پر ٹکی ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ عام باسی جو نہ کسی جلوس کا حصہ ہے نہ کسی چوکی کا محافظ، مگر پھر بھی ہر رات ڈر کے ساتھ سوتا اور ہر صبح خدشے کے ساتھ جاگتا ہے۔

راولاکوٹ کوئی اکیلی کہانی نہیں، یہ بس ایک اور یاد دہانی ہے کہ جب مکالمہ دم توڑ دیتا ہے تو خاموشی کبھی خالی نہیں رہتی، وہ خوف سے بھر جاتی ہے۔ گزارش اتنی سی ہے کہ جس کے ہاتھ میں بھی اس بند دروازے کی کنجی ہے، وہ اسے کھول دے۔ شہر کو اس کی خوشبو لوٹا دی جائے، تاکہ اگلے ساون میں پھر وہی رونق ہو، وہی قطاریں ہوں، اور راولاکوٹ کی پہچان سناٹا نہیں، زندگی ہو۔

Post a Comment

0 Comments