آزاد کشمیر: قربانیاں، سیاست، اور قوم کی یادداشت

   گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ آزاد کشمیر میں دیکھنے کو مل رہا ہے، وہ دراصل سیاست نہیں، ایک پرانی داستان کی تردد ہے — وہ داستان جس میں خون بہا، گھر جلے، اور ڈوگرہ راج کے خلاف ایک لوہار کی آواز بنی۔ آج جب کچھ لوگ "حکومت" بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے تاریخ کی کتاب کا وہ صفحہ مہوا لیا ہو جس میں پونچھ اور پلندری کا نام لکھا تھا۔

آزاد کشمیر کے گیارہ ضلع ہیں۔ ان میں سے دو — راولاکوٹ اور پلندری — آج پھر سے اپنی بات کہہ رہے ہیں۔ یاد رہے، جب 1947 میں یہاں خالی پہاڑوں پر صرف امید کی بستی تھی، تب انہی پونچھ–پلندری کے عظیم لوگوں نے اپنی جان، مال، اور عزت کا نذرانہ پیش کیا۔ ڈوگرہ راج کے خلاف جو پہلی آگ بھڑکی، وہ انھی علاقوں کے سینوں سے نکلی۔ آج انہی کا حصہ صاف کہہ رہا ہے کہ "حکومت" بنانے کا خواب پورا کرنے سے پہلے، یہ سوچو کہ کس کس کی قربانی کو بھول گئے ہو۔

سیاست میں اتحاد اور با‌شندگی کی روایت ہوتی ہے۔ لیکن جب حکومت بنانے کی دوڑ شکستہ توہمات، الزامات اور "ہم تم" کی دیوار پر لٹک جائے، تو نفاق پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور نفاق ایسی چیز ہے جو کبھی ایک رات میں پیدا نہیں ہوتا — وہ چھپ چھپ کر خیالوں میں، زبانوں پر، پھر خطوں میں، پھر راستوں پر، اور پھر خون میں اتر جاتا ہے۔

پی ایم ایل این اس وقت وہ جماعت ہے جسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ اس جماعت کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ اس وقت صفائی کا مظاہرہ کرے۔ سیاست کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں، نہ کسی ایک گروپ کی۔ عوام کی عزت، تاریخ کی عزت، اور ان قربانیوں کی عزت — یہ سب برابر ضروری ہیں۔ اگر آج پونچھ اور پلندری کے عظیم لوگوں کو "نظر انداز" کرکے ایک سرکار بنائی جائے، تو یہ نہ صرف سیاسی غلطی ہوگی، بلکہ قومی توہمت بھی ہوگی۔ اکثر کہتے ہیں کہ "تاریخ کو منہ نہیں چھپایا جا سکتا، وہ کہیں نہ کہیں سے نکل آتی ہے۔" آج آزاد کشمیر کی تاریخ پھر ایک دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ اس دروازے کو بند نہ کرنا، بلکہ اسے ادب سے کھولنا ہوگا۔ کیونکہ جب قربانیاں یاد رہتی ہیں، تو ملک زندہ رہتا ہے۔ اور جب قربانیاں بھول جاتی ہیں، تو راستے ٹوٹنے لگتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments