شاہ جی کا تاج، گیلانی صاحب کے سر
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) نے وہ کام کر دکھایا ہے جو صرف مسلم لیگ (ن) ہی کر سکتی ہے: الیکشن جیتنے سے پہلے وزیراعظم کا نام تقریباً طے ہو چکا تھا، الیکشن جیتنے کے بعد وہ نام بدل گیا۔
پونچھ ڈویژن میں جہاں چاند رات جیسا ماحول تھا، وہاں مانڈا کشمیر نے خاموشی سے اکثریت لا کر پارٹی کو یہ اعزاز بخش دیا کہ اب حکومت بنانے کی جلدی میں ہے — جیسے بارات دلہن سے پہلے دروازے پر پہنچ جائے۔ شاہ غلام قادر صاحب، جو پارٹی کے صدر ہیں اور جن کا نام مہینوں سے وزارتِ عظمیٰ کی فہرست میں نمبر ایک پر لکھا جا رہا تھا، وہ راستہ اتنا صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی تھی۔ درمیان میں راجہ فاروق حیدر کا نام بھی ہوا میں تیرتا رہا — مقبولیت کی سند کے ساتھ، مگر ووٹ کی سند کے بغیر۔ طارق فاروق کا نام بھی چلا، لیکن قرعہ اسپیکری پر نکل آیا، گویا انہیں دروازے پر عزت سے بٹھا دیا گیا تاکہ اندر کا فیصلہ کوئی اور کر سکے۔
اور پھر رات گئے اسلام آباد کے پی ایم ہاؤس سے ایک نام نکلا جو کسی نے سوچا نہ تھا: بیرسٹر افتخار گیلانی۔ وہ صاحب جو اپنی سیٹ ہار چکے تھے اور بعد میں مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں واپس لائے گئے — سیاست کا وہ خوبصورت اصول جس کے تحت ہار بھی بعض اوقات جیت سے زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے۔ نواز شریف صاحب نے خود نامزدگی کی، مریم اورنگزیب نے اعلان کیا، اور پارٹی کے اندر وہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں جو عموماً بند کمروں میں ہی رہتی ہیں۔
شاہ صاحب نے رات گئے ٹویٹ کیا کہ ووٹ کی عزت کی جانی چاہیے — ایک ایسا جملہ جو مسلم لیگ (ن) کی سیاسی ڈکشنری میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اور سب سے کم عمل میں آنے والا فقرہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ فیصلہ نواز شریف کا اپنا ہے، مگر پارٹی کے اندر کچھ ایسے ہاتھ بھی متحرک بتائے جاتے ہیں جو کبھی کیمرے کے سامنے نہیں آتے۔
اور اسی دوران پنجاب سے ایک نئی سرگوشی بھی چل نکلی ہے — کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مریم بی بی ہی وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے یہ تاج، شاہ صاحب کی جگہ، گیلانی صاحب کے سر رکھ دیا۔ ثابت کچھ نہیں، مگر سیاست میں افواہ بھی نصف فیصلہ ہوتی ہے۔
ویسے یہ کوئی نئی روایت بھی نہیں۔ ابھی پچھلے مہینے ہی پیپلز پارٹی نے یہی کھیل کھیلا تھا: چودھری انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد لائی گئی، اور مقامی صدر چودھری یاسین کے بجائے، اسلام آباد بیٹھی مرکزی قیادت نے فیصل ممتاز راٹھور کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کر دیا — فیصلہ زرداری صاحب، بلاول بھٹو اور فریال تالپور کی مشاورت سے ہوا، مقامی صدر کی مرضی سے نہیں۔ گویا آزاد کشمیر میں یہ کوئی مسلم لیگ (ن) کی ایجاد نہیں، بلکہ دونوں بڑی جماعتوں کا مشترکہ اصول ہے: علاقائی صدر کا عہدہ عزت کی علامت ہے، اختیار کا نہیں۔ فیصلہ ہمیشہ اسلام آباد یا لاہور کی کسی نشست پر بیٹھ کر ہوتا ہے، اور مقامی قیادت کو صرف اعلان سننے کی حد تک شریک رکھا جاتا ہے۔
بہرحال، آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ اس دفعہ بھی ووٹ سے نہیں، بلکہ رات گئے کی ملاقاتوں سے طے ہوئی ہے — اور یہی شاید اس خطے کی سیاست کا سب سے پرانا، سب سے مشترک اور سب سے مضبوط ضابطہ ہے: جماعت کوئی بھی ہو، تاج ہمیشہ باہر سے آتا ہے۔
0 Comments